Home About Sarkar Spirituality Introduction of Gohar Shahi Sarkar

Spirituality Introduction of Gohar Shahi Sarkar

0
Spirituality Introduction of Gohar Shahi Sarkar
                                              حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالی کی باطنی شخصیت کے چند حقائق
انیس 19سال کی عمر میں جسہ توفیق الہی آپ کے ساتھ لگا دیا گیا تھا جویک سال رہااور اس کے اثر سے کپڑے پھاڑ کر صرف ایک دھوتی میں جام داتارؒ کے جنگل میں چلے گئیے ۔جسہ توفیق الہی عارضی طور پر ملا تھا جو کہ 14سال غائب رہا ،اور پھر 1975میں دوبارہ سیون شریف کے جنگل میں لانے کا سبب بھی یہی جسہ توفیق الہی ہی تھا !25سال کی عمر میں جسہ گوہرشاہی کو باطنی لشکر کے سالار کی حیثیت سے نوازہ گیا ،جس کی وجہ سے ابلیسی اور دنیاوی شیطانوں کے شر سے محفوظ رہے ۔جسہ توفیق الہی اور طفل نوری ،ارواح،ملائکہ اور لطائف سے بھی اعلی مخلوقیں ہیں،ان کا تعلق ملائکہ کی طرح براہ راست رب کی ذات سے ہے اور ان کا مقام ، مقام احدیت ہے۔35سال کی عمر میں 15رمضان 1976کو ایک نطفہ ،نور قلب میں داخل کیا گیا،جو کچھ عرصہ بعد تعلیم و تربیت کیلئے کئی مختلف مقامات پر بلایا گیا ۔15رمضان1985میں جبکہ آپ اللہ کے حکم سے دنیاوی ڈیوٹی پر حیدراآباد مامور ہو چکے تھے ۔وہی نطفہ نور طفل نوری کی حیثیت پا کر مکمل طور پر حوالے کر دیا گیا ،جس کے زریعے دربار رسالت ﷺ میں تاج سلطانی پہنایا گیا ۔طفل نوری کو بارہ سال بعد مرتبہ عطا ہوتا ہے لیکن آپکو دنیاوی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ مرتبہ 9سال میں ہی عطا ہو گیا ۔

جشن شاہی منانے کی وجوہات : 15رمضان 1977کو اللہ کی طرف سے خاص الہامات کا سلسلہ بھی شروع ہو ا تھا ۔راضیہ مرضیہ کا وعدہ ہوا، مرتبہ بھی ارشاد ہوا تھا ۔چونکہ آپ کے ہر مرتبے اور معراج کا تعلق پندرہ رمضان سے ہے ۔اس لئیے اسی خوشی میں جشن شاہی اسی روز منایا جاتا ہے۔آپ نے 1978میں حیدرآبادآ کر رشدو ہدایت کا سلسلہ جاری کر دیا ۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ سلسلہ پوری دنیا میں پھیل گیا ۔لاکھوں افراد کے قلوب اللہ اللہ میں لگ گئیے ۔بے شمار افراد کے قلوب پر اسم ذات اللہ نقش ہوا اور ان کو نظر آیا ۔لاتعداد افرا د کشف القبور اور کشف الحضور تک پہنچے۔ان گنت لاعلاج مریض شفا یاب ہوئے۔حضرت سیدنا ریاض احمد گوہرشاہی مدظلہ العالی نے 1980میں باقاعدہ تنظیم کے زریعے پاکستان سے دعوت و تبلیغ کا کام شروع کیا ۔آپ کا پیغام ’’اللہ کی محبت‘‘ کو بہت پزیرائی حاصل ہوئی ۔ہر مذہب کے افراد آپ سے عقیدت اور محبت کرنے لگے اور اپنی اپنی عبادت گاہوں میں حضرت سیدنا گوہر شاہی کو خطابات کی دعوت دینے لگے ۔اس کی تاریخ میں نظیر نہی ملتی کہ کسی شخصیت کو ہر مذہب والوں نے اپنی عبادت گاہوں کے سٹیج اور منبر پر بٹھا کر عزت دی ہو ۔ہندو،مسلم، سکھ،عیسائی اور ہر مذہب والوں کے دل سیدنا گوہر شاہی کی صحبت سے زکر اللہ سے جاری ہوئے یہ آپ کی ادنی سی کرامت ہے یوں تو آپکی بے شمار کرامتیں ہیں۔ہر ایک کا تزکرہ ناممکن ہے ۔

                                                                                  حضرت سیدنا ریاض احمد گوہرشاہی مدظلہ العالی 
�آپ 25نومبر1945کو برصغیر کے ایک چھوٹے سے گاوں ڈھوک گوھر شاہ ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے ۔آپ کی والدہ ماجدہ حضرت سیدگوہرعلی شاہ کے پوتوں میں سے ہیں۔جبکہ والدگرامی سیدگوہرعلی شاہ کے نواسوں میں سے ہیں،اور داداخاندان مغلیہ سے تعلق رکھتے ہیں
سیدنا گوہر شاہی کے والد گرامی کے تاثرات:
بچپن سے ہی آپکا رخ اولیاء کے درباروں کی طرف تھا ۔آپکے والدگرامی فرماتے ہیں کہ گوہرشاھی پانچ یا چھ سا ل کی عمرسے ہی غائب ہوجایا کرتے اور ہم انکو ڈھونڈنے نکلتے تو ا ن کو نظام الدین اولیاءؒ (دہلی)کے مزار پر یا سرہانے سویا ہوا پاتے ۔مجھے کئی دفعہ ایسا محسوس ہواکہ جیسے یہ نظام الدین اولیاءؒ سے باتیں کر رہے ہیں۔یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب گوہر شاہی کے والد ملازمت کے سلسلے میں دہلی میں مقیم تھے ۔مارچ 97میں جب سیدنا ریاض احمد گوہرشاہی مدظلہ العالی انڈیا تشریف لے گئے تونظام الدین اولیاءؒ دربار کے سجادہ نشین اسلام الدین نظامی نے صاحب مزار کے اشارے پر ان کو دربارکے سرہانے دستارپہنائی تھی۔بچپن سے ہی جو بات کہتے وہ پوری ہوجاتی ۔اس وجہ سے میں انکی ہر جائز ضد پوری کرتا ۔آپ کے والد گرامی مزید فرماتے ہیں کہ گوہر شاہی حسب معمول روزانہ لان میں آتے ہیں تو میں ان کی آمد پراحترام میں کھڑا ہوجاتا ہوں۔اس بات پر گوہرشاہی مجھ سے ناراض ھو جاتے ہیں اورکہتے ہیں میں آپکا بیٹا ہوں،مجھے شرم آتی ہے آپ اس طرح نہ کھڑے ہوا کریں۔لیکن میرا بار بار یہی جواب ہوتا کہ میں آپکے لئیے نہی بلکہ جو اللہ آپ میں بس رہا ہے اس کیاحترام میں کھڑ ا ہوتا ہوں

   گوہرشاہی کی والد ہ ماجد ہ کے تاثرات:

آپ فرماتی ہیں کہ بچپن میں ریاض کبھی سکول نہ جاتا کرتا یا جوانی میں دوران کاروبار کبھی نقصان ہو جاتا تواس سے اظہارخفگی کرتی،لیکن انہوں نے کبھی مجھے سر اٹھا کر جواب نہی دیا ۔جبکہ میرے بزرگ ککہ میاں ڈھوک شمس والے کہا کرتے تھے ’کہ ریاض کو گالی مت دیاکرجو کچھ میں اس میں دیکھتاہوں تمہں خبرنہی ‘۔انسانی ہمدردی اتنی کہ اگر ریاض کو پتہ چل جاتا کہ گاوں سے آٹھ میل کے فاصلے پرکوئی بس خراب ہوہے تو ان لوگوں کے لئیے کھانا بنوا کر سائیکل پر انہیں دینے جاتا

حضرت گوہرشاہی کی زوجہ محترمہ کے تاثرات:
اول تو انکو غصہ آتا ہی نہی ۔اور اگر کبھی غصہ آتا ہے تو انتہائی شدید ہوتاہے وہ بھی کسی غلط بات پر 249حضرت گوہرشاہی کی سخاوت کے بارے کہتی ہیں249صبح جب اپنے کمرے سے لان تک جاتے توجیب بھری ہوئی ہوتی تھی249اور مڑکر آتے ہیں تو جیب خالی ہوتی ہے۔سارا پیسہ ضرورتمندوں کے دے آتے ہیں اور پھر مجھے پیسوں کی ضرورت ہوتی توسنجیدہوجاتے ہیں او راس طرح مجھے غصہ آتاہے۔پھر معصومانہ چہرہ دیکھ کربے ساختہ یہ شعر زبان پر آجاتا
دل کے بڑے سخی ہیں،

بیٹھے ہیں دھن لٹا کے

حضرت گوہرشاہی کے صاحبزادوں کے انکے بارے میں تاثرات:
ابو ہم سے پیار بھی بہت کرتے ہیں اور خیال بھی بہت رکھتے ہیں لیکن جب ہم ان سے پیسے مانگتے ہیں تو وہ بہت کم دیتے ہیں اورکہتے ہیں تم فضول خرچی کرو گے ۔تب ہم کہتے ہیںیا توہمیں بھی فقیر بنا دو یاہمیں پیسے دو۔

حضرت گوہرشاہی کی ممانی کے تاثرات:
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں آٹھویں جماعت کا طالبعلم تھا ،ایک دفعہ ممانی (جوکہ ذاہدوپارسااور عبادت گزار تھیں لیکن حرص اور حسد میں بھی مبتلا تھیں جو کہ اکثرعبادت گزاروں میں ہوتا ہے)نے کہا تجھ میں اورتو سب ٹھیک ہے لیکن تو نماز نہی پڑھتامیں نے جواب دیا :کہ نمازرب کا تحفہ ہے میں نہی چاہتا کہ نماز کے ساتھ بخل،تکبر،حسد،کمینہ کی ملاوٹ رب کے پاس بھیجوں جب کبھی بھی نماز پڑھوں گا تو صحیح نماز پڑھوں گا ،تم لوگوں کی طرح نہی کہ نماز بھی پڑھتے ہواور غیبت،چغلی،بہتان جیسے کبیرہ گناہ بھی کرتے ہو،

حضرت گوہرشاہی کے سکول ٹیچر کے تاثرات:
موڑہ نوری پرائمری سکول کے استاد ماسٹر امیر حسین کہتے ہیں،میں علاقے میں بہت سخت گیر استاد مشہور تھا،شرارتی بچوں کو بہت مارتا تھا اور انکی شرارت یہ تھی کہ یہ سکول دیر سے آتے تھے اور جب میں انکو غصے سے مارنے لگتا تو مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ کسی نے میرا ڈنڈہ پکڑ ہو اور اس طرح مجھے ہنسی آجاتی تھی۔

حضرت گوہرشاہی کے برادری اور ان کے دوستوں کے تاثرات:
ہم نے کبھی انکو کسی سے لڑتے جھگڑے نہی دیکھا ،بلکہ اگر کوئی دوست غصہ کرتا تھا یا انکو مارنے آتا تو یہ ہنس پڑتے۔

مرشد کریم سیدنا گوہر شاہی کے قریبی دوست محمد اقبال مقیم فضولیاں:
محمد اقبال کہتے ہیں کہ برسات کے موسم میں کبھی کبھی جب کھیتوں کی پگڈنڈی سے گزرنا ہوتا توبے شمار چیونٹے قطاردرقطاراس پگڈنڈی پر چل رہے ہوتے ہم لوگ پگڈنڈی پرچل پڑتے او ر چیونٹیوں کا خیال نہی کرتے لیکن یہ پگڈنڈی سے ہٹ کر کیچڑ پر چلتے تاکہ چیونٹیوں کوتکلیف نہ ہو۔جب ان قتل کا مقدمہ بنا توکرائم برانچ کے قدوس شیخ انکوائیری کے لئیے آئے تومحلے والوں نے انھیں بتایاکہ ہماری نظر میں توگوہرشاہی نے کبھی ایک مچھر نہی مارا کہاں ایک انسان کا قتل۔

گوہرشاہی اپنے بچپن کے حالات بیا ن فرماتے ہیں:
دس بارہ سال کی کی عمر سے ہی خواب میں رب سے باتیں ہوتی تھیں اور بیت المامور نظرآتا تھا،لیکن مجھے اس کی حقیقت کا علم نہی تھا ۔چلہ کشی کے بعد جب و ہی باتیں اور وہی مناظرسامنے آئے تو حقیقت آشکار ہوئی۔
ایک دفعہ کا زکر ہے کہ میرے ماموں کا رشتہ دار جو فوج میں ملازم تھاوہ طوائفوں کے کوٹھوں پرجایا کرتا تھا ،گھروالوں کے منع کرنے کی وجہ سے وہ مجھے ساتھ لے جاتا تاکہ گھر والوں کو شک نہ گزرے۔مجھے چائے اور بسکٹ کھانے کو دیتا اور خود اندر چلا جاتا،جبکہ مجھے طوائفوں اورکوٹھوں کی سمجھ نہی تھی ۔ماموں مجھ سے ہی کہتا کہ عورتوں کا افس ہے۔کچھ عرصے بعدمیرا دل اس جگہ سے اچاٹ ہوگیا۔یہ عورتیں ہیں اور اللہ نے اسی مقصد کے لئیے بنایا ہے۔یعنی اس نے مجھے بھی اس میں ملوث کرنے کی کوشش کی ۔ماموں کی باتوں کا اتنا اثرہواکہ نفس کی کشمکش کی وجہ سے رات بھر نہ سو سکا ،اور پھر اچانک آنکھ لگ گئی۔دیکھتاہوں کہ ایک بڑا گول چبوتراہے اور میں اسکے نیچے کھڑا ہوں،اوپر سے ایک کرخت آواز آئی اسکو لاو،دیکھتاہوں کہ ماموں کو دو آدمی پکڑکر لا رہے ہیں اور اشارہ کرتے ہیں کہ یہ ہے ،پھر آواز آتی ہے کہ اسکو گرزوں سے ماروتب اس کو مارتے ہیں تو وہ چیخیں مارتا ہے،اور دھاڑتا ہے ،اسکی شکل سور جیسی ہو جاتی ہے،پھر آواز آتی ہے کہ تو بھی اگر اسکے ساتھ شامل ہو اتو تیرا بھی یہی حال ہو گا ۔پھر میں توبہ توبہ کرتا ہوں اور آنکھ کھلتی ہے تو ذبان پر یہی ہوتا ہے
کہ یارب میری توبہ ،یارب میری توبہ اور کئی سال تک اس خواب کا اثر رہا
اس کے دوسرے دن میں گاوں کی طرف جا رہا تھا بس میں سوار تھاکچھ ڈاکوایک ٹیکسی سے ٹیپ اتارنے کی کوشش کر رہے تھے ،ڈرائیور نے مزاحمت کی تو اس پر چھریوں سے وار کر کے قتل کر دیا ۔یہ منظر دیکھ کر ہماری بس رک گئی اور وہ ڈاکو ہمیں دیکھ کر فرار ہو گئیے ۔اور ڈرائیور نے تڑپ تڑپ کر ہمارے سامنے جان دے دی ۔پھر ذہن میں یہی آیا کہ ذندگی کا کیا بھروسہ رات کو سونے لگا تو اندر یہ شعر گونجنا شروع ہو گئیے
کرساری خطائیں معاف میری،تیرے در پرآن گرا
اور ساری رات گریہ زاری میں گزاری ،اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد میں دنیا چھوڑ کرجا م داتارؒ کے دربار پر چلا آیا لیکن وہاں سے بھی کوئی منزل نہ ملی،اور میرا بہنوئی مجھے وہاں سے واپس دنیا میں لے آیا،34 سال کی عمر میں بری امام ؒ سامنے آئے اور کہا اب تیرا وقت ہے دوبارہ جنگل میں چلہ کشی کے بعدکچھ حاصل ہو ا تو دوبارہ جام داتا رؒ گیا،صاحب مزار سامنے آگئیے میں نے کہا اس وقت مجھے قبول کر لیا جاتا توبیچ میں نفسا نی ذندگی سے محفوظ رہتاانھوں نے جواب دیا :اس وقت تمھارا وقت نہی آیا تھا ۔۔۔

شیخ نظام الدین میری لینڈ امریکہ کے تاثرات :
جس طرح ہرمذہب ،ہر قوم ،ہرنسل کے افراد گوہر شاہی سے رشدوہدایت حاصل کر کے اللہ کی محبت اور ذات تک پہنچنا شروع ہو گئیے ۔خدا کی قسم !میں بھی ان ہی لوگوں میں سے ہوں جن کو دلوں پر خوشخط لکھا اللہ چمک رہا ہے۔
حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالی نے تین سال سیون شریف کی پہاڑیوں اور لال باغ میں اللہ کے عشق کی خاطر چلہ کشی کری،اللہ کو پانے کی خاطردنیاداری چھوڑی،پھر اللہ کے حکم ہی سے دوبارہ دنیامیںآئے۔لاکھوں دلوں میں اللہ کا زکر بسایا اور لوگوں کی اللہ محبت کی طرف راغب کیا ،ہر مذہب والوں نے گوہرشاہی کو مسجدوں ،مندروں، گردواروں،اور گرجا گھروں میں روحانی خطاب کے لئیے مدعو کیا،اورزکرقلب حاصل کیا،بے شمار مردوذن انکی تعلیم سے گناہوں تائب ہویئے اور اللہ کی طرف جھک گئیے ،بے شمار لاعلاج مریض انکے روحانی علاج سے شفایاب ہوے،پھر اللہ نے انکا چہرہ چاند میں دکھایا،پھر حجراسودمیں بھی انکی تصویر ظاہر ہوئی،پوری دنیا میں کی شہرت ہوگئی۔لیکن کورچشم مولویوں کو اور ولیوں سے بغض رکھنے والوں مسلمانوں کو انکی شخصیت پسند نہ آئی،انکی کتابوں کی تحریریوں میں خیانت کر کے ان پر کفر اور واجب القتل کے فتوئے لگائے ۔
مانچسٹر میں انکی رہائش گاہ پر پیٹرول پھینکا،کوٹری میں دوران محفل ان پر ہینڈ گرینیڈ بم سے حملہ کیا گیا ۔لاکھوں روپے ان کے سر کی قیمت رکھی گئی ۔پانچ قسم کے سنگین مقدمات ،اندروں ملک انکو پھنسانے کے لئیے قائم کئیے گئیے ۔نواز شریف کی وجہ سے سند ہ حکومت بھی مخالفت میں شامل ہو گئی تھی ۔دو کیس قتل ،ناجائز اسلحہ،ناجائز قبصہ کی دفعات بھی لگائی گیں ۔امریکہ میں بھی ایک عورت سے ذیادتی اورحبس بے جا کا مقدمہ بنایا گیا
زرد صحافت نے انہیں ذمانے میں خوب بدنام کرنا چاہا،لیکن آخر میں عدالتوں شنوائی اور تحقیقات کے بعدیہ مقدمات جھوٹے قرار دے کر کلئیرکر دئیے اور اللہ نے اپنے دوست کو ہر مصیبت سے بچائے رکھا